اے بنی آدم! تیری روزی تجھ سے بڑھ کر تیری طلب گار ہے۔ پس تجھے چاہیے کہ اس کی طلب میں شریعت کی سیدھی راہ پر چلتا رہے۔
جو شخص جاہ وشوکت کے گھمنڈ میں مغرور ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل وزبوں حال کرتا ہے۔
جو شخص اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے، وہ اپنے آپ کو حقیر کر لیتا ہے۔
جو شخص تکبر اور بڑائی اختیار کرتا ہے، لوگ اس سے دشمنی اور عداوت رکھتے ہیں۔
دنیا دار لوگ دنیا کی جن چیزوں پر مغرور ہیں وہ تجھے مغرور نہ کریں کیونکہ یہ ایسے سائے کی مثال ہیں جو پل کے پل میں دور ہو جاتا ہے۔
تنگ دستی کی حالت میں مقروض ہونا گو یا سخت موت ہے اور تقدیر الہی پر بھروسہ
کرنا نہایت آرام کا باعث ہے۔
ایمان کی افضل صفت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے۔
جب تقدیر آجائے تو تدبیر اور ہوشیاری بیکار ہو جاتی ہے۔


.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)

0 Comments