جھوٹ بول کر جیتنے سے اچھا ہے تم سچ بول کر ہار جاؤ۔
جب انسان کی عقل مکمل ہو جاتی ہے تو اس کی گفتگو مختصر ہو جاتی ہے۔
اس کو دوست مت بناؤ جو کسی محفل میں آپ کو شرمندہ کرے خوا وہ مزاق ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔
پریشانیاں حالات سے نہیں خیالات سے پیدا ہوتی ہیں۔
عقل مند ہے وہ شخص جو انجام سوچ کر کام کرے۔
بارش کا قطرہ، سیپی اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سپی اُسے موتی بنا دیتی ہے اور سانپ اُسے زہر ۔ جس کا جیسا ظرف ویسی اُس کی تخلیق ہوتی ہے۔
کوشش کرو کہ تم دنیا میں رہو! دُنیا تم میں نہ رہے۔ کیونکہ کشتی جب تک پانی میں رہتی ہے خوب تیرتی ہے لیکن جب پانی کشتی میں آ جائے تو وہ ڈوب جاتی ہے۔
شرافت عقل و ادب سے ہے، نہ کہ مال دنسب سے ہے۔
اپنی سوچوں کو پانی کے قطروں سے زیادہ شفاف رکھو کیونکہ جس طرح قطروں سے دریا بنتا ہے اسی طرح سوچوں سے “ایمان” بنتا ہے۔
کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہو تو لاعلمی کا اظہار کر دینا نصف علم ہے۔
کارخانہ قدرت میں تفکر کرنا بھی ایک عبادت ہے۔
بے شک سب سے زیادہ ثواب ملنے والی نیکی احسان اور بلا شبہ تمام کاموں میں
نیک انجام والا کام صبر ہے۔
جو شخص برے لوگوں کے ساتھ احسان کرتا ہے
وہ خودان کے شر سے بھی سلامت
نہیں رہتا۔
احسان کرنا انسان کو غلام بنا لینااور منت رکھنا احسان کو خراب کر دینا ہے۔
ایمان کی تین علامات ہیں۔
کثرت تقوی۔
نفس کی شہوتوں کو دبا کر رکھنا۔
نفسانی خواہشوں پر غالب آنا۔
کثرت تقوی۔
نفس کی شہوتوں کو دبا کر رکھنا۔
نفسانی خواہشوں پر غالب آنا۔

.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)


0 Comments