مت کر خاک کے پتلے پہ غرور و بے نیازی اتنی خود
کو خودی میں جھانک کر دیکھ تجھ میں رکھا گیا ہے
دل پاک نہیں تو پاک ہو سکتا نہیں انساں
ورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہت
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
کون یہ کہتا ہے، خدا نظر نہیں آتا
وہی تو نظر آتا ہے جب کچھ نظر نہیں آتا
کیوں پیتے ہیں لوگ شراب کسی کے غم میں اقبال
جھوٹے یار کی خاطر سچے خدا کو ناراض کرتے ہیں
میرے بچپن کے دن بھی کیا خوب تھے اقبال
بے نمازی بھی تھا اور بے گناہ بھی
دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
ولوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیں
پتھر کی مسجدوں میں خُدا ڈھونڈتے ہیں لوگ
سونے دو اگر وہ سو رہے ہیں غلامی کی نیند میں
ہو سکتا ہے وہ خواب آزادی کا دیکھ رہے ہوں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)
.png)


0 Comments